جمعہ 27 فروری 2026 - 13:58
اسرائیل کی طرفداری اور بھارت کا بدلتا ہوا مقام

حوزہ/ مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر اضطراب کی لپیٹ میں ہے۔ United States اور Iran کے درمیان بڑھتی کشیدگی، اور غزہ میں جاری المناک انسانی صورتحال نے دنیا بھر میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ متعدد ممالک نے کھل کر اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کی اور فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کی۔ ایسے ماحول میں بھارتی وزیرِاعظم Narendra Modi کا Israel کا دورہ غیر معمولی معنویت اختیار کر گیا۔ ناقدین کے نزدیک یہ اقدام غیر جانبداری کے دعوے سے انحراف تھا اور اس سے بھارت کی ساکھ متاثر ہوئی۔

تحریر: مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی

حوزہ نیوز ایجنسی | مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر اضطراب کی لپیٹ میں ہے۔ United States اور Iran کے درمیان بڑھتی کشیدگی، اور غزہ میں جاری المناک انسانی صورتحال نے دنیا بھر میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ متعدد ممالک نے کھل کر اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کی اور فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کی۔ ایسے ماحول میں بھارتی وزیرِاعظم Narendra Modi کا Israel کا دورہ غیر معمولی معنویت اختیار کر گیا۔ ناقدین کے نزدیک یہ اقدام غیر جانبداری کے دعوے سے انحراف تھا اور اس سے بھارت کی ساکھ متاثر ہوئی۔

بھارت ہمیشہ سے فلسطینی عوام کا حامی اور اپنے موقف ’’دو ریاستی حل‘‘ کا پاسبان رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت ایشیا کے سب سے طاقتور اور بااثر ممالک میں سے ایک ہے۔ 1.4 ارب سے زائد آبادی والا یہ ملک 28 ریاستوں اور 8 یونین علاقوں پر مشتمل ایک وفاقی جمہوریہ ہے، جو خطے میں اقتصادی، عسکری اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے اہم مقام رکھتا ہے۔ معاشی اعتبار سے یہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہو چکا ہے، عسکری قوت کے لحاظ سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے، اور ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق اور آئی ٹی کے شعبوں میں بھی اس نے غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔ عالمی سفارت کاری میں اس کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے، اور اسے ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔لیکن سن 2014 کے بعد سے اس کا اسرائیل کی جانب بڑھتا ہوا جھکاؤ اور سال رواں 2026میں مودی کا اسرائیل کے دورے کے پیچھے کیا محرکات ہیں ، کیا مقاصد ہیں بعض حلقوں کے نزدیک قابلِ تشویش سمجھا جا رہا ہے۔ ایک ایسی ریاست کے لیے جو خود کو متوازن اور خودمختار خارجہ پالیسی کی علمبردار قرار دیتی رہی ہو، کسی ایک ملک کی طرف واضح جھکاؤ یقیناً غور و فکر کا متقاضی ہے۔

یہ بحث نئی نہیں، مگر حالات نے اسے نئی شدت دے دی ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی طویل عرصے تک غیر وابستگی کے اصول پر قائم رہی۔ سرد جنگ کے دور میں اس نے طاقت کے بلاکس سے فاصلہ رکھ کر خود کو ایک متوازن اور اصولی ریاست کے طور پر پیش کیا۔ فلسطینی حقِ خود ارادیت کی حمایت اور Palestine کی ریاست کے قیام کی تائید اسی پالیسی کا منطقی تسلسل تھا۔ یہی وہ بنیاد تھی جس نے بھارت کو ترقی پذیر دنیا میں ایک اخلاقی وقار عطا کیا۔

مگر عالمی سیاست کی بساط بدل چکی ہے۔ گزشتہ دہائی میں نئی دہلی نے نظریاتی وابستگیوں کے بجائے عملی مفادات کو ترجیح دینا شروع کیا۔ دفاعی ٹیکنالوجی، زرعی جدت، سائبر سکیورٹی اور انٹیلی جنس تعاون کے شعبوں میں اسرائیل ایک اہم شراکت دار بن کر ابھرا۔ اسی دوران امریکہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بھی وسعت آئی۔ اس طرزِ عمل کو بعض ماہرین “کثیر جہتی سفارت کاری” قرار دیتے ہیں—یعنی ایک ہی وقت میں مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنا۔

تاہم خارجہ پالیسی محض مفادات کا حساب نہیں؛ اس میں اخلاقی تاثر بھی شامل ہوتا ہے۔ جب غزہ سے انسانی بحران کی خبریں سامنے آتی ہیں تو مسلم دنیا اور دیگر حلقوں میں یہ احساس ابھرتا ہے کہ بھارت کا جھکاؤ واضح طور پر ایک سمت میں ہے۔ اس تاثر سے بھارت کی نرم طاقت متاثر ہو سکتی ہے—وہ نرم طاقت جو اسے ایک متوازن، ذمہ دار اور اصولی آواز کے طور پر نمایاں کرتی تھی۔

دوسری جانب یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ آج کی عالمی سیاست میں مکمل غیر جانبداری تقریباً معدوم ہو چکی ہے۔ ہر ریاست اپنی معاشی ترقی، سلامتی اور اسٹریٹجک تقاضوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتی ہے۔ چین کے بڑھتے اثرات، توانائی کی ضروریات اور دفاعی تعاون کی اہمیت بھارت کو نئی صف بندیوں کی طرف لے جا رہی ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ بھارت نے شاید اپنا سابقہ مقام کھو دیا ہے اور وہ اب غیر وابستہ تحریک کے نمائندہ کے بجائے اپنے مفادات کے تحفظ پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔ اصل سوال یہی ہے کہ کیا یہ حکمتِ عملی اسے طویل المدت استحکام اور عالمی احترام دلائے گی، یا اس کی اخلاقی ساکھ کو مزید آزمائشوں سے دوچار کرے گی؟ اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha